تیرا چراغِ نظر، شام کو صبح کرے
تیرا تبسّم ہوا، دل کو اتمنان دِیے
لہجے کی نرمی میں، ریشمی سا سکوں
جیسے کہ موسم کوئی، چُپکے سے برسے خون
ناز سے چلتی ہوئی، روشنی بن کے تُو
سانس کی حد پہ کہیں، بن گئی میری دُعا تُو
تو ہی میرا نُورؔ ہے، میری نگاہوں کا سفر
تو ہی میری روشنی، دل کی زباں پر اثر
تو ہی میرا نُورؔ ہے، لمحہ بہ لمحہ اُتر
تیری ادا میں چھپا، سارا جہاں بے خبر
آنچلِ خوشبو ترا، راہ میں پھیل گیا
چاند کی لو کی طرح، دل پہ یہ میل گیا
بالوں کی برسات میں، شام سنورتی رہی
آنکھ کی چُپ کی طرح، بات نکھرتی رہی
ہولے سے تُو، دِل میں رچی
خاموش سی، بارش بچی
تو ہی میرا نُورؔ ہے، میری نگاہوں کا سفر
تو ہی میری روشنی، دل کی زباں پر اثر
تو ہی میرا نُورؔ ہے، لمحہ بہ لمحہ اُتر
تیری ادا میں چھپا، سارا جہاں بے خبر